ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مودی ملک میں رشوت خوری کے خلاف کام کرنے والے اداروں کو برباد کرنے پر تلے ہیں : پرشانت بھوشن

مودی ملک میں رشوت خوری کے خلاف کام کرنے والے اداروں کو برباد کرنے پر تلے ہیں : پرشانت بھوشن

Mon, 23 Jan 2017 11:37:00    S.O. News Service

بنگلورو۔22جنوری (ایس او نیوز ؍ صدیق آلدوری)وزیر اعظم نریندر مودی ملک میں رشوت خوری پر قابو پانے کیلئے کام کررہے اداروں کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ ملک میں8نومبر کی رات نوٹ بندی فیصلے کے بعد پرائیویٹ مالی اداروں کو ہی فائدہ پہنچاہے ۔ ملک میں کسی کے پاس سے کالا دھن ڈھونڈ نکالنے میں نوٹ بندی کاکوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ موجود ہ این ڈی اے حکومت اس ملک کی سب سے زیادہ ناہل حکومت ثابت ہورہی ہے ۔ یہ بات آج یہاں سنٹرل کالج کے کانفرنس ہال میں منعقدہ دلت سنگھر ش سمیتی ،کرناٹک جنا شکتی اور سوراج ابھیان کی جانب سے منعقدہ 8/11 کا نوٹ بندی قانون اور ملک پر اس کااثر کے عنوان پر سیمینار سے خطاب کے دوران سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سوراج آندولن کے صدر پرشانت بھوشن نے کہی۔نریندر مودی نے نوٹ بندی قانون لاگو کرنے کے وقت قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں موجود کالا دھن واپس لانے اور دہشت گردوں کو فراہم ہورہی مالی امداد پر روک لگانے کیلئے 500اور 1000کے نوٹوں پر پابندی لگائی جارہی ہے ۔ لیکن اب مودی اپنے اس بیان سے مکر گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ملک میں کیش لیس نظام لانے کیلئے نوٹ بندی قانون لایا گیا ہے ۔کیا مودی اس بات سے لاعلم ہیں کہ ملک کی 50فیصد آبادی کے پاس ان کااپنا کوئی بینک کھاتہ ہی نہیں ہے ۔ ایسے حالات میں کیا ملک میں کیش لیس کاروباری نظام کامیاب ہوسکتا ہے۔ملک میں 8/11کے اس قانون کے بعد ملک کے صنعتی زرعی و معاشی شعبہ میں 35فیصد روز گار کے مواقع کم ہوگئے ہیں اور عوام کی آمدنی میں 50فیصد کی کمی آئی ہے اور آنے والے ایک سال کے دو ران ملک کی ترقی کانشانہ بھی بری طرح گھٹنے والا ہے۔بھوشن نے مرکزی حکومت سے کہا کہ عام افراد کو اپنے لین دین اور کاروباری شعبہ میں کیش لیس ہونے سے قبل سیاسی پارٹیوں کے لین دین کو کیش لیس نظام سے جوڑنے کااعلان کیا جائے ۔ملک بھر میں مارکیٹ سے 500اور 1000کے جتنے نوٹ واپس لئے گئے ہیں اس تعدادمیں نئے نوٹ رائج کرنے کیلئے کم از کم 9ماہ کاعرصہ لگ سکتا ہے اوراس وقت تک ملک کے غریب عوام کو مسائل سے دوچار ہونا پڑے گا ۔اگر نریندر مودی ملک اور ملک کے عوام سے اتنی ہی ہمدردی رکھتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ موریشس اورسوئزر لینڈ کے بینک کے بے نامی اکاؤنٹس میں جو کالا دھن ہے اس کی مقدار اور وہاں سے بے نامی طور پر ہندوستان میں لگائی گئی رقم کی تفصیلات منظر عام پرلائیں۔ سنگاپور ،اور موریشس میں ایک بار ٹیکس ادا کرکے کروڑوں ڈالر س کی رقم بے نامی کھاتوں میں جمع کی جارہی ہے ۔ وہاں سے یہ رقم ہندوستان میں بے نامی طور پر لاکر یہاں کاروبار میں لگائی جارہی ہے ۔ اس طرح کا زیادہ تر کاروبار ریلائنس جیسی کمپنیوں میں چلایاجارہاہے ۔ سہارا ڈائری میں رقم لینے والوں کی فہرست میں نریندر مودی کانام بھی شامل ہے ،مگر مودی جی اس کی آج تک کوئی وضاحت نہیں کرپائے ہیں۔


Share: